(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس اب بھی بڑی حد تک غیر استعمال شدہ عسکری صلاحیت موجود ہے، خاص طور پر میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں، جسے اب تک مکمل طور پر بروئے کار نہیں لایا گیا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مختلف فریقین اپنی دفاعی طاقت کا اظہار کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے TRT World کے مطابق ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ ان کے پاس "نمایاں غیر استعمال شدہ فائر پاور” موجود ہے، جو ضرورت پڑنے پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس بیان کو خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ماضی میں اپنی دفاعی حکمت عملی کو زیادہ تر "ڈیٹرنس” یعنی باز رکھنے کی پالیسی کے تحت رکھا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد صرف عسکری طاقت دکھانا نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی پیغام دینا ہوتا ہے۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ بیانات زیادہ تر دفاعی نوعیت کے ہوتے ہیں اور براہ راست تصادم سے بچنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر ایران کی عسکری صلاحیتوں اور خطے میں اس کے کردار پر مرکوز ہو گئی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔