اسرائیلتازہ ترین

اگر مذاکرات ناکام ہوئے اسرائیل امریکا جنگ کریں گے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی تازہ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران سے متعلق جاری سفارتی عمل پر قریبی رابطے میں ہیں، اور دونوں ممالک ممکنہ طور پر ایسے اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں جو اس صورت میں اختیار کیے جا سکتے ہیں اگر مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے، جس میں سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیوں میں اضافہ اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے جیسے آپشنز زیرِ غور ہیں۔ تاہم ان اقدامات کی حتمی نوعیت کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال یہ مشاورت ابتدائی مرحلے میں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے، جس میں دباؤ اور مذاکرات دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ماضی میں بھی ایران کے حوالے سے مشترکہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں، خاص طور پر اس کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کے معاملے پر۔

مزید برآں، خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر خلیجی ممالک اور یورپی طاقتیں بھی اس عمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں، جس سے توانائی کی عالمی منڈی اور بین الاقوامی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب کچھ تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے بیانات اکثر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے دیے جاتے ہیں تاکہ مذاکرات میں بہتر شرائط حاصل کی جا سکیں۔ ان کے مطابق ابھی بھی سفارتی حل کے امکانات موجود ہیں اور تمام فریقین کسی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی بدستور موجود ہے، اور آنے والے دنوں میں ہونے والی سفارتی پیش رفت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہوتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button