(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
غیر مصدقہ مگر زیرِ گردش رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے گرد امریکی اور اسرائیلی افواج کی موجودگی اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث خطے میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال کو ایک حساس مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں کسی بھی غیر متوقع پیش رفت کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی جانب سے ممکنہ طور پر اسٹریٹجک بمبار طیاروں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کے ذریعے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت برقرار رکھی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تیاریوں کو عموماً دباؤ بڑھانے اور مذاکرات میں پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فوری اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی دفاعی حکمت عملی میں میزائل سسٹمز اور علاقائی اثر و رسوخ کو اہم حیثیت حاصل ہے، جس کے باعث کسی بھی تصادم کی صورت میں دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اطلاعات کا بڑا حصہ غیر تصدیق شدہ ذرائع پر مبنی ہو سکتا ہے، اس لیے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل محتاط تجزیہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
مجموعی طور پر صورتحال انتہائی حساس قرار دی جا رہی ہے، جہاں فوجی تیاریوں، بیانات اور سفارتی سرگرمیوں کا ملا جلا اثر خطے کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔