(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے ہونے والے حالیہ میزائل حملوں کے جواب میں ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائی کے دوران جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر کے قریب واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس سمیت کئی مقامات پر حملے کیے گئے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کے نتیجے میں بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات کے تحت انخلا کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔ دوسری جانب ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ صورتحال کے بارے میں متضاد دعوے اور بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز اور مغربی ایران کے بعض دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی اطلاع دی کہ تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر پروازوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ سکیورٹی ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حملوں سے چند گھنٹے قبل ایک امریکی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں اسرائیل کی جانب سے فوری جوابی کارروائی کی توقع نہیں۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے مختلف اہداف کے خلاف فوجی کارروائیاں انجام دیں۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ہر نئی کارروائی مزید ردعمل اور کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
عالمی برادری مسلسل فریقین سے تحمل اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کر رہی ہے تاکہ تنازع مزید نہ پھیلے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دن خطے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ دنیا بھر کی نظریں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری صورتحال پر مرکوز ہیں۔