(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 کے درمیان دنیا کے 51 ممالک نے اسرائیل کو مجموعی طور پر 885.6 ملین ڈالر مالیت کی فوجی امداد اور دفاعی سازوسامان فراہم کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی درآمدات کا تقریباً 91 فیصد حصہ اس وقت کے بعد پہنچا جب عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے ممکنہ نسل کشی کے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عبوری اقدامات کا حکم دیا تھا۔
الجزیرہ کی تحقیق میں مختلف سرکاری تجارتی ریکارڈز، شپنگ ڈیٹا، کسٹمز دستاویزات اور دفاعی برآمدات سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی سازوسامان، پرزہ جات، دفاعی ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ اشیا مختلف ممالک سے اسرائیل منتقل کی گئیں۔
تحقیق کے مطابق اسرائیل کو دفاعی سامان فراہم کرنے والے ممالک میں مغربی اور دیگر خطوں کے متعدد ممالک شامل تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد بھی دفاعی سپلائی کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، بلکہ کئی معاملات میں یہ سرگرمیاں جاری رہیں۔
دوسری جانب اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے دفاع کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اسرائیلی حکام غزہ جنگ کے حوالے سے عائد بعض الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی جنگ، انسانی بحران اور ہتھیاروں کی عالمی تجارت سے متعلق مباحث بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں بھی کئی ممالک سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ وہ تنازع کے دوران ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق اپنی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیں۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اس تحقیقاتی سلسلے میں مزید تفصیلات، دستاویزی شواہد اور متعلقہ ڈیٹا مرحلہ وار شائع کیا جائے گا، جس سے اسرائیل کو ملنے والی فوجی سپلائی کے عالمی نیٹ ورک پر مزید روشنی پڑنے کی توقع ہے۔