(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف اوپن سورس انٹیلی جنس پلیٹ فارم "سوار اٹلس” (Soar Atlas) نے دعویٰ کیا ہے کہ 8 جون کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر اسرائیل کے رامات ڈیوڈ فضائی اڈے پر ممکنہ حملے کے آثار ظاہر کرتی ہیں۔
پوسٹ میں شائع کی گئی تصاویر میں فضائی اڈے کے ایک حصے کا موازنہ کیا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر پہلے موجود ایک ہینگر یا طیارہ گاہ کی جگہ اب ایک نمایاں سفید نشان دیکھا جا سکتا ہے۔ سوار اٹلس کے مطابق اگرچہ دستیاب تصاویر کم ریزولوشن کی ہیں، تاہم یہ تبدیلی کسی ممکنہ نقصان یا حملے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
رامات ڈیوڈ ایئربیس اسرائیل کے اہم فوجی فضائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور ملک کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ یہ اڈہ اسرائیلی فضائیہ کی مختلف آپریشنل سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس سے متعلق کسی بھی خبر کو خطے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی مکمل توثیق نہیں ہو سکی۔ دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کم معیار کی سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو سکتا ہے اور مزید شواہد یا سرکاری معلومات کا انتظار ضروری ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان حملوں، جوابی کارروائیوں اور سکیورٹی خدشات سے متعلق متعدد اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جس کے باعث خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جدید سیٹلائٹ تصاویر اور اوپن سورس انٹیلی جنس پلیٹ فارمز اب جنگی اور سکیورٹی معاملات کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم کسی بھی دعوے کی تصدیق کے لیے سرکاری بیانات اور متعدد آزاد ذرائع سے معلومات کا تقابل ضروری سمجھا جاتا ہے۔