(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین کے صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان حالیہ ملاقات نے مشرقی ایشیا اور عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹس کے مطابق چین اور شمالی کوریا کے درمیان تجارت، بنیادی ڈھانچے اور دفاعی شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے نئے معاہدوں پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان معاہدوں کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی روابط میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی فورمز پر ان ممالک کے مؤقف میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی نے عالمی طاقتوں کے توازن کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ممالک اگرچہ مختلف علاقائی ترجیحات رکھتے ہیں، لیکن بعض اہم بین الاقوامی معاملات پر ان کے مفادات ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی سفارتی حلقوں میں ان تعلقات کو خصوصی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مغربی ممالک، خصوصاً امریکا اور اس کے اتحادی، ایشیا اور یورپ میں اپنے دفاعی اور سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی منظرنامے میں مختلف طاقتوں کے درمیان مقابلہ صرف فوجی میدان تک محدود نہیں بلکہ تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور سفارتکاری کے شعبوں تک بھی پھیل چکا ہے۔