امریکاتازہ ترین

اسرائیل میں امریکی خفیہ کمانڈوز کی تعیناتی کا انکشاف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے اپنی معروف فضائی فوجی یونٹ "82nd ایئر بورن ڈویژن” کے بعض پیرا ٹروپرز کو خاموشی سے اسرائیل تعینات کیا تھا، تاہم اس تعیناتی کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق مارچ میں جب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اعلان کیا تھا کہ 82nd ایئر بورن ڈویژن کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے تو اس وقت یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس دستے کے کچھ اہلکار اسرائیل بھی پہنچ رہے ہیں۔ بعد ازاں ایک فوجی تعیناتی کے حکم نامے سے اس معاملے کی تفصیلات سامنے آئیں۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تعیناتی کا تعلق مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان تیار کیے گئے ہنگامی فوجی منصوبوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان منصوبوں پر کئی ماہ سے کام جاری تھا اور ان کا مقصد خطے میں ممکنہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تیاری کو بہتر بنانا تھا۔

82nd ایئر بورن ڈویژن امریکی فوج کی تیز رفتار ردعمل دینے والی اہم فورس سمجھی جاتی ہے، جو مختصر نوٹس پر دنیا کے کسی بھی حصے میں تعینات کی جا سکتی ہے۔ یہ یونٹ فضائی آپریشنز، فوری مداخلت اور حساس فوجی مشنز کے لیے خصوصی تربیت رکھتی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام نے اس تعیناتی کو کم تشہیر دینے کو ترجیح دی تاکہ خطے میں ممکنہ سیاسی اور سفارتی حساسیت سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں امریکی فوجیوں کی موجودگی مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور واشنگٹن کے علاقائی مفادات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button