
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تائیوان کے حوالے سے بیجنگ کی فوجی سرگرمیوں کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے اور اس کے پیچھے “بد نیتی” کارفرما ہے۔ چینی حکام نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ تائیوان کے حساس معاملے پر انتہائی احتیاط سے کام لے اور کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کرے۔
بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چین کے تائیوان امور کے ترجمان Chen Binhua نے کہا کہ امریکی بیانات زمینی حقائق کے برعکس ہیں اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کچھ امریکی حلقے مسلسل “چین کے خطرے” کا بیانیہ دہرا کر صورتحال کو غیر ضروری طور پر کشیدہ بنا رہے ہیں۔
چین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تائیوان اس کا داخلی معاملہ ہے اور اس پر کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان نے زور دیا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ ہینڈل کرے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہ سکے۔

دوسری جانب حالیہ مہینوں میں چین نے تائیوان کے گرد اپنی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جن میں جنگی مشقیں اور لائیو فائر ڈرلز شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں خاص طور پر دسمبر کے آخر میں ہونے والی مشقوں کے بعد مزید توجہ کا مرکز بنی ہیں، جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ چین کی یہ فوجی سرگرمیاں تائیوان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں، جبکہ بیجنگ ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی پراپیگنڈا قرار دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بیان بازی دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جس کے اثرات پورے ایشیا پیسیفک خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تائیوان کا مسئلہ نہ صرف چین اور امریکہ کے تعلقات کا اہم ترین نکتہ ہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک حساس فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، جہاں کسی بھی غلط اندازے یا قدم کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔



