
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں سفارتی کوششوں، فوجی دباؤ اور عالمی ردعمل نے صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 21 اپریل تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اور ایران کو اپنا افزودہ یورینیم خود حوالے کرنا ہوگا، بصورت دیگر امریکہ کارروائی کر سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے عندیہ دیا ہے کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور اس کے لیے اعلیٰ سطح پر منظوری حاصل کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ مذاکرات مکمل ناکام نہیں ہوئے اور امید ہے کہ جلد ایک اور دور شروع ہو سکتا ہے، جس میں کسی ممکنہ ڈیل کی راہ نکل سکتی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان میں جمعرات کو ایک بار پھر مذاکرات متوقع ہیں، جبکہ چین بھی اس عمل میں سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے رابطہ کر کے خطے کی صورتحال پر بات چیت کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بڑی طاقتیں اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کو مسترد کر دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اب دفاعی ضروریات کے لیے امریکہ کے بجائے چین، برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب رجوع کر رہے ہیں، جو خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسی دوران ایک اہم پیش رفت میں چین سے منسلک ایک آئل ٹینکر امریکی دباؤ کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزر گیا، جسے امریکی حکمت عملی کے لیے ایک چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چینی اور روسی وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی سامنے آئی ہے، جسے خطے میں بڑھتے عالمی تعاون کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی سیاست کے اندر بھی اس صورتحال پر شدید اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان برینن نے صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا، جبکہ ماہر معاشیات جیفری ساکس نے بھی ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری طرف ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور جنگ کے باعث ملک کو تقریباً 270 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ کو ان نقصانات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، جو اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام پیش رفتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صورتحال صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ایک وسیع عالمی تنازع کی شکل اختیار کر رہی ہے، جس میں بڑی طاقتیں، علاقائی ممالک اور عالمی توانائی مارکیٹ سب متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔



