ایرانتازہ ترین

ایران-امریکہ مذاکرات کی امید، ہرمز ناکہ بندی میں کشیدگی برقرار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ نے آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔ یہ اقدام پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے رابطہ کر کے معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ڈیل ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گی۔

ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور پاکستان ایک بار پھر ممکنہ میزبان کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی ناکہ بندی کو “سمندری قزاقی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے، جبکہ تہران میں عوامی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

دلچسپ طور پر اس کشیدہ صورتحال کے باوجود ایک چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہا، جس نے امریکی ناکہ بندی کی مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور عالمی تجارتی سرگرمیوں میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ طاقت کے کھیل کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک طرف امریکہ فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے اور دوسری جانب ایران سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں بڑے تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button