(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعہ کی شب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے والے ہیں، جہاں ان کی آمد ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس دورے کے دوران نہ صرف پاک-ایران تعلقات بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال، خصوصاً امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات، زیرِ بحث آئیں گے۔
اسلام آباد میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں سیاسی اور سکیورٹی معاملات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی بات بھی سامنے آ رہی ہے، جس میں پاکستان کا کردار سہولت کار کے طور پر اہم ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، جو پہلے بھی علاقائی سفارتکاری میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، اس بار بھی ایک محتاط مگر مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے سرحدی سکیورٹی اور اقتصادی تعاون پر بھی پیش رفت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اپنے پاکستانی ہم منصب سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی امور، تجارت، اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر گفتگو متوقع ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران اور مغربی ممالک کے تعلقات، بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کا نیا دور شروع ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایسے میں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اور توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر توانائی، سلامتی اور سفارتی تعلقات نئے رخ اختیار کر رہے ہیں، اور خطے کے ممالک اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ عباس عراقچی کا یہ دورہ انہی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔