(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی کے شہر انطالیہ میں جاری ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ایک اہم علاقائی سفارتی اجلاس ہونے جا رہا ہے، جس میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ چاروں ممالک خطے کو درپیش سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی کوشش کریں گے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں خطے کے مسائل کے حل کے لیے "علاقائی ملکیت” اور باہمی مکالمے پر زور دیا جائے گا تاکہ بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی سطح پر حل تلاش کیے جا سکیں۔
یہ چار ملکی اجلاس اس سلسلے کی تیسری نشست ہے، جس کی میزبانی ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کریں گے۔ اس سے قبل اسی فارمیٹ میں وزرائے خارجہ کے اجلاس مارچ میں ریاض اور پھر اسلام آباد میں منعقد ہو چکے ہیں، جہاں خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال اور مشترکہ چیلنجز پر تفصیلی بات چیت کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے اجلاس خطے میں سفارتی روابط کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی سازی کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پلیٹ فارم مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر غور کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس نہ صرف علاقائی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔