(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شمالی اسرائیل کے شہر حیفہ کے 44 سالہ ایک رہائشی کے خلاف ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں فردِ جرم عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ شخص نے حساس مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور انہیں ایک ایسے فرد کو فراہم کیا جس کے بارے میں اسے معلوم تھا کہ وہ ایرانی ایجنٹ سے منسلک ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے شواہد جمع کیے گئے ہیں جن کی بنیاد پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ زیرِ تفتیش شخص نے مبینہ طور پر مختلف حساس تنصیبات اور اہم مقامات کی معلومات اکٹھی کیں، جنہیں بعد میں بیرونی رابطوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ تاہم عدالت میں الزامات ثابت ہونا ابھی باقی ہے اور حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں جاسوسی اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں اسرائیلی حکام متعدد مرتبہ ایسے افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کر چکے ہیں جن پر ایران کے لیے معلومات اکٹھی کرنے یا رابطے رکھنے کے الزامات لگائے گئے۔
دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سرگرمیوں اور انسدادِ جاسوسی کے اقدامات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس نوعیت کے مقدمات کو اسرائیلی حکام قومی سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہیں۔