
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک بڑے معاہدے کی امید ہے، تاہم اس کا انحصار اب تہران کے اگلے قدم پر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جلد متوقع ہے، ممکنہ طور پر اسی ہفتے۔
میڈیا سے گفتگو میں وینس نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں تھے بلکہ کچھ معاملات میں پیش رفت بھی ہوئی۔ ان کے مطابق ایرانی وفد نے امریکہ کے مؤقف کی جانب کچھ لچک دکھائی، تاہم یہ پیش رفت واشنگٹن کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ایران مکمل طور پر یورینیم افزودگی کی صلاحیت ترک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو مکمل طور پر ملک سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
وینس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بڑے معاہدے کے لیے ایران کو نہ صرف اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنا ہوگا بلکہ ان کے بقول "دہشت گردی کی حمایت” بھی ترک کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو اس کے عالمی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری جانب انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس عمل کو طول نہیں دینا چاہتا اور ترجیح ایک جامع اور کامیاب معاہدہ ہے۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مذاکرات کو جلد منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے وینس نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اسے ہر حال میں کھلا رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ایران نے اس راستے کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکہ کا ردعمل فوری اور مختلف نوعیت کا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عام امریکی شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ادھر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک کی کوششیں جاری ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جلد شروع کیا جا سکے۔ بعض رپورٹس کے مطابق آئندہ مذاکرات اسلام آباد میں ہی دوبارہ ہو سکتے ہیں، تاہم جنیوا بھی ایک ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آنے والے دنوں میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی مارکیٹ کو استحکام دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم دونوں فریقین کے سخت مؤقف کو دیکھتے ہوئے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا اب بھی ایک بڑا سفارتی چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔



