امریکاتازہ ترین

ایران ڈیل کی ضرورت یا سیاسی رکاوٹیں؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور سفارتی پیچیدگیوں کے درمیان ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی شکل میں ایران کے ساتھ سمجھوتہ ناگزیر ہو چکا ہے، تاہم سیاسی فیصلے اس عمل کو سست یا متاثر کر سکتے ہیں۔

بلومبرگ کے تجزیہ کار مارک چیمپیئن کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ ایک فریم ورک معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر سفارتی عمل آگے نہ بڑھا تو خطرہ ہے کہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے دباؤ میں ہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، اور خطے میں اس کے کردار جیسے معاملات اب بھی بنیادی تنازعہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس میں جوہری سرگرمیوں پر کنٹرول اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور معاشی مفادات پر سمجھوتہ کرنے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت کے بیانات اور پالیسی میں غیر یقینی عناصر بھی اس عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔ بعض حلقوں کے مطابق اگر فیصلے زیادہ سیاسی نوعیت کے رہے اور عملی حکمت عملی کو نظر انداز کیا گیا تو ممکنہ معاہدہ دیرپا ثابت نہیں ہو سکے گا۔

دوسری جانب خطے میں جاری فوجی سرگرمیاں، سمندری ناکہ بندی، اور پراکسی تنازعات سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں، خاص طور پر یورپی ممالک، اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ مذاکرات کو ترجیح دی جائے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتے اس حوالے سے نہایت اہم ہوں گے۔ اگر امریکہ اور ایران کسی بنیادی فریم ورک پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے، تاہم ناکامی کی صورت میں نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور تجارتی نظام بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button