
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ مخالف قوتوں کے پاس اب بھی مالی وسائل اور جدید اسلحہ موجود ہے، تاہم اسٹریٹجک سطح پر انہیں ایران کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اپنے تفصیلی بیان میں قالیباف نے کہا کہ دشمن نے ایران کی فضائیہ، میزائل پروگرام اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے سمیت مختلف منصوبے بنائے، جن میں زمینی حملے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوششیں بھی شامل تھیں، مگر ان تمام اقدامات میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ عسکری لحاظ سے امریکہ ایران سے زیادہ طاقتور ہے اور اس کے پاس وسائل، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر جنگی تجربہ بھی زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل، جسے انہوں نے خطے میں امریکہ کا اتحادی قرار دیا، بھی نمایاں فوجی طاقت رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایران نے غیر روایتی (asymmetric) حکمت عملی کے تحت جنگ لڑی اور اپنی منصوبہ بندی اور تیاری کے ذریعے دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ دشمن نے اگرچہ وسائل استعمال کیے لیکن اس کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں خامیاں رہیں، جبکہ ایران کے بارے میں اس کے اندازے بھی غلط ثابت ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ اپنی پالیسیوں میں "امریکہ فرسٹ” کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن عملی طور پر اسرائیل کو ترجیح دیتا ہے اور اسی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے اپنی دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ ان کے مطابق چند ہی مہینوں میں ایران نے تقریباً 180 ڈرونز کو نشانہ بنایا، جو ماضی میں ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے امریکی ایف-35 طیارے کو نشانہ بنانے کے دعوے کو بھی ایک منظم اور تکنیکی طور پر پیچیدہ کارروائی قرار دیا، جس سے بقول ان کے، مخالف قوتوں کو ایران کی نئی صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے قالیباف نے دعویٰ کیا کہ یہ اہم سمندری راستہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی کی کوشش کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے ایران نے سخت ردعمل دیا، جس کے بعد صورتحال کشیدگی کے قریب پہنچ گئی، تاہم مخالف فریق پیچھے ہٹ گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حالیہ دنوں میں عائد کی گئی پابندیوں کو ختم نہ کیا تو آبنائے ہرمز میں آمد و رفت محدود کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کسی بھی صورت میں یہ قبول نہیں کرے گا کہ دیگر ممالک اس راستے سے گزریں جبکہ اس پر خود پابندی ہو۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس ہے اور عالمی طاقتیں اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



