
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں کسی بڑے جامع معاہدے کے بجائے اب ایک عارضی سمجھوتے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام پر اختلافات تاحال برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم بنیادی نکات پر اختلافات ختم نہ ہو سکے۔ خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، جوہری سرگرمیوں کی مدت اور نگرانی کے طریقہ کار جیسے معاملات اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
اسی صورتحال کے پیش نظر مذاکرات کاروں نے وقتی طور پر ایک عبوری معاہدے پر غور شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد فوری کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی اس لیے اختیار کی جا رہی ہے تاکہ وقت حاصل کر کے بڑے معاہدے کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عبوری ڈیل میں ممکنہ طور پر ایران کے ہائی لیول افزودہ یورینیم کے ذخائر پر کسی حد تک سمجھوتہ شامل ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے بدلے ایران کو کچھ معاشی یا پابندیوں میں نرمی کی صورت میں ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور کسی بھی قسم کی ناکامی براہ راست فوجی تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے ثالثی کرنے والے ممالک، بالخصوص پاکستان، دونوں فریقین کو مذاکرات جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عبوری معاہدہ وقتی طور پر تناؤ کم کر سکتا ہے، لیکن اگر بنیادی اختلافات حل نہ ہوئے تو یہ صرف ایک عارضی حل ثابت ہوگا۔ اس لیے آئندہ چند ہفتے اس بات کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کسی مستقل اور جامع معاہدے کی طرف بڑھ پاتے ہیں یا نہیں۔



