(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک بار پھر اسرائیل اور خطے کی موجودہ صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اسرائیلی حکومت کے رویّے کے باوجود ہی ممکن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی خطے میں امن کی کوئی معمولی امید پیدا ہوتی ہے، اسرائیل اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
اردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو دوسروں کے عدم تحفظ سے جوڑتا ہے، جو خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کی کوششوں کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ ایسے ممالک جو جنگ کے بجائے مذاکرات اور استحکام کی بات کرتے ہیں، انہیں بھی تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکی اور اسپین سمیت کئی ممالک امن کے قیام کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، تاہم انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس کے باوجود ترکی سچ اور انصاف کے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اردوان نے کہا کہ ترکی کوئی عام ریاست نہیں ہے اور نہ ہی کوئی طاقت اسے یا اس کی قیادت کو دھمکا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کا مؤقف واضح ہے اور وہ ہر حال میں “ظالم کو ظالم، ڈاکو کو ڈاکو اور قاتل کو قاتل” کہتا رہے گا۔ اردوان کے مطابق، یہ اصولی مؤقف نہ صرف ترکی کی پالیسی کا حصہ ہے بلکہ عالمی انصاف کے لیے بھی ضروری ہے۔
اپنے خطاب میں اردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ترکوں، کردوں اور عربوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ یہ بات مزید واضح ہو رہی ہے کہ ان تمام اقوام کے مخالف عناصر ایک ہی ہیں، جو خطے میں تقسیم اور عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں۔
غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ترک صدر نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ہزاروں جانوں کے ضیاع کے باوجود بعض حلقے ترکی پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے بیانات حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اردوان کے حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔ ترکی خود کو ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرتے ہوئے نہ صرف سفارتی سطح پر متحرک ہے بلکہ انسانی بنیادوں پر بھی اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ترکی کا یہ سخت مؤقف خطے کی سیاست اور عالمی سفارتی ماحول پر مزید اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر کشیدگی میں کمی کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔