(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
عالمی توانائی ایجنسی (IEA) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حملوں کے باعث توانائی کے شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل بحالی میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ تیل اور گیس کی پیداوار متاثر ہونے سے عالمی منڈیوں پر بھی طویل المدتی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات، مرمت کے پیچیدہ عمل اور سیکیورٹی خدشات اس تاخیر کی بڑی وجوہات ہیں۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں مسلسل کشیدگی موجود ہے، وہاں بحالی کے کام مزید سست ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے، جبکہ سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اگر خطے میں استحکام جلد بحال نہ ہوا تو توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑے گا۔
آنے والے دو سال توانائی کے شعبے کے لیے نہایت اہم ہوں گے، جہاں بحالی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اور سرمایہ کاری کے چیلنجز بھی سامنے رہیں گے۔