پاکستانتازہ ترین

ایران مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث قرار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

پاکستان حالیہ دنوں میں عالمی سفارتی منظرنامے پر ایک اہم کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جہاں امریکا نے باضابطہ طور پر اسے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں "واحد ثالث” قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق پاکستان نے مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایران کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ پاکستان کے ذریعے ہی جاری رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا ہے تو اس کا امکان ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد میں ہی منعقد ہوں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان بیک وقت کئی اہم سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ایک جانب آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران میں موجود ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت سے مذاکرات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور خلیجی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ "دوہرا سفارتی محاذ” پاکستان کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ خطے کے اہم فریقین کے ساتھ بیک وقت روابط رکھ کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خاص طور پر ایران، سعودی عرب اور امریکا کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا سفارتی چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بطور ثالث قبول کیا جانا اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اسے اب تک دونوں فریقین—ایران اور امریکا—کے لیے قابلِ اعتماد سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر ممالک کی پیشکش کے باوجود واشنگٹن نے پاکستان کو مرکزی کردار دینے کو ترجیح دی۔

دوسری جانب یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان اس حساس صورتحال میں غیرجانبداری برقرار رکھ پائے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ دفاعی اور معاشی سطح پر مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر پاکستان اس کردار کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی عالمی ساکھ میں اضافہ کرے گا بلکہ مستقبل میں بھی اسے اہم سفارتی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

مجموعی طور پر موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں وہ نہ صرف خطے میں امن کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت کو بھی مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button