تازہ ترینترکی

ترک وزیر خارجہ: اسرائیل کی پالیسیوں سے عالمی سیکیورٹی کو خطرہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے، جو اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سیکیورٹی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت کی حکمت عملی نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پوری دنیا میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے بنیادی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہاں کی آبادی کو یا تو طاقت کے ذریعے ختم کرنے یا نقل مکانی پر مجبور کرنے کی پالیسی برقرار ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے رہا ہے۔

لبنان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیدان نے خبردار کیا کہ اسرائیل وہاں زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ایسے اقدامات جاری رہے تو خطے میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب انہوں نے اسرائیل، قبرص اور یونان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ معاملہ صرف ترکیہ کا نہیں بلکہ دیگر مسلم ممالک بھی اس پر سنجیدہ خدشات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ کمزور ریاستیں اس فوجی اتحاد کو اپنے لیے خطرہ تصور کر رہی ہیں، جبکہ ترکیہ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔

فیدان نے واضح کیا کہ ترکیہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے بجائے خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کا مؤقف اسرائیل سے مختلف ہے، جو مبینہ طور پر فوجی اتحادوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ انقرہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی دوران آبنائے ہرمز میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں ایران کی بحری سرگرمیوں کے باعث مزید دو آئل ٹینکرز کو واپسی پر مجبور ہونا پڑا، جس سے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

تاہم وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ جاری کشیدگی کے باوجود جنگ بندی میں توسیع ممکن ہے، اور سفارتی کوششیں خطے کو بڑے تصادم سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں مذاکرات اور بین الاقوامی تعاون ہی خطے میں پائیدار امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button