برطانوی ساحل کے قریب روسی بحری جہاز، خفیہ مشن کا خدشہ
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
برطانیہ کے جنوبی ساحل کے قریب ایک روسی بحری جہاز کی غیر معمولی موجودگی نے سیکیورٹی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ممکنہ طور پر ماسکو سے منسلک آئل ٹینکروں کو برطانوی کارروائی سے بچانے کے لیے تعینات کیا گیا ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق "پی ایم 82” نامی روسی نیول سپلائی اور مرمت کا جہاز سسیکس کے ساحل کے قریب تقریباً 18 گھنٹے تک ایک ہی مقام پر موجود رہا۔ یہ جہاز گیلپر ونڈ فارم کے قریب کھڑا دیکھا گیا، جو اس کی سرگرمیوں کو مزید مشکوک بناتا ہے کیونکہ اس علاقے میں اس نوعیت کی روسی موجودگی پہلے کبھی رپورٹ نہیں ہوئی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جہاز دراصل ان روسی "شیڈو ٹینکرز” کی نگرانی یا حفاظت کر رہا ہو سکتا ہے جو مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے خفیہ انداز میں تیل کی ترسیل کرتے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر برطانوی اسپیشل فورسز ان ٹینکروں کو روکنے یا قبضے میں لینے کی کوشش کرتیں تو یہ جہاز رکاوٹ بن سکتا تھا۔
ایک سابق بحریہ اور انٹیلی جنس افسر جیمز ڈروکسفورڈ کے مطابق جہاز کی پوزیشننگ اتفاقی نہیں لگتی بلکہ اسے جان بوجھ کر ایسے مقام پر رکھا گیا جہاں وہ بظاہر غیر اہم دکھائی دے لیکن درحقیقت حساس سرگرمیوں کی نگرانی کر سکے۔ ان کے مطابق یہ جہاز ایک عارضی کمانڈ سینٹر یا سیکیورٹی بیس کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا تھا۔
121 میٹر طویل یہ جہاز تقریباً 280 ٹن تک سامان لے جانے اور دیگر بحری جہازوں کی مرمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے اس کی عسکری اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے جہازوں کو باآسانی لاجسٹک سپورٹ اور خفیہ آپریشنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکام پہلے ہی روسی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، خصوصاً ان اطلاعات کے بعد کہ روسی آبدوزیں سمندر کے نیچے کیبلز کو نشانہ بنانے کے لیے طویل عرصے سے خفیہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ کے قریب اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں بلکہ یہ مغربی ممالک اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ اگر واقعی یہ جہاز کسی ممکنہ تصادم کو روکنے یا اس میں مداخلت کے لیے موجود تھا تو یہ صورتحال خطے میں ایک نئے قسم کے "خاموش بحری مقابلے” کی نشاندہی کرتی ہے۔
حکام کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یورپی پانیوں میں اس طرح کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے لیے نگرانی اور ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہوگی۔