روس کے حملے، یوکرین میں 13 افراد ہلاک

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
یوکرین پر روس کی جانب سے کیے گئے تازہ ڈرون اور میزائل حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ حملے بدھ کی رات مختلف شہروں میں کیے گئے، جس سے ایک بار پھر جنگ کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دارالحکومت کیف میں حملے کے نتیجے میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رہیں، اور ایک ماں اور بچے کو زندہ نکال لیا گیا۔
جنوب مشرقی شہر ڈنیپرو میں بھی حملوں کے دوران دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ بندرگاہی شہر اوڈیسا میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ مختلف شہروں میں آگ لگنے اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

خارکیف میں ایک ڈرون حملے میں دو بزرگ شہری زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ حکام کے مطابق حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں روس کے جنوبی علاقے کراسنودار میں دو بچے ہلاک ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حال ہی میں آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر ایک مختصر جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے تھے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ ابھی کسی بھی مرحلے پر کم ہونے کے آثار نہیں دکھا رہی، بلکہ دونوں جانب سے حملوں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی بحران کو بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر تشویش میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔
یوکرین جنگ اب ایک طویل اور پیچیدہ تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں ہر نئی کارروائی نہ صرف میدان جنگ بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔



