
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تجویز سامنے آنے کے بعد سفارتی سطح پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، تاہم اس ممکنہ رابطے کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنما جلد بات چیت کریں گے، جسے انہوں نے دہائیوں بعد ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
تاہم لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر جوزف عون نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس بیان کے بعد ٹرمپ کے دعوے پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی حکومتی حلقوں سے تعلق رکھنے والے بعض وزراء نے عندیہ دیا ہے کہ ممکنہ رابطہ ہو سکتا ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کسی مجوزہ بات چیت کے بارے میں علم نہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات ایک غیر معمولی قدم ہوگا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں اور راکٹ حملے اس تناؤ کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لبنان ممکنہ مذاکرات کے لیے جنگ بندی کو بنیادی شرط کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ اسرائیل اس مرحلے پر مکمل جنگ بندی پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا اور اپنی سیکیورٹی کارروائیاں جاری رکھنے کا مؤقف رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اور باہمی عدم اعتماد اس عمل میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا دونوں فریق کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے عملی اقدامات پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔



