امریکاتازہ ترین

امریکی ناکہ بندی: 13 جہاز پیچھے ہٹ گئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کے گرد قائم بحری ناکہ بندی کے باعث کم از کم 13 جہازوں نے آگے بڑھنے کے بجائے اپنا رخ موڑ لیا، جس سے خلیج کے حساس سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی واضح ہو گئی ہے۔

واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکی بحریہ کی موجودگی اور نگرانی کے باعث جہازوں نے خطرہ مول لینے کے بجائے واپسی کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ اس کی تیل برآمدات اور سمندری سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔

آبنائے ہرمز، جہاں یہ پیش رفت سامنے آئی، دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں فوری ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال نہ صرف فوجی تناؤ کو بڑھا رہی ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اگر ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہی تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور شپنگ لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال اس صورتحال پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران ایسے اقدامات کو "اقتصادی جنگ” قرار دیتا رہا ہے اور سخت جواب دینے کا عندیہ بھی دے چکا ہے۔

علاقائی مبصرین کے مطابق خلیج میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی خطہ مختلف جغرافیائی اور سیاسی کشیدگیوں کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button