تازہ ترین

فوجی قیادت کے مشورے پر ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران کے خلاف براہِ راست فوجی ردعمل دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، تاہم بعد ازاں اعلیٰ فوجی حکام کی سفارش پر کارروائی کی منظوری دے دی۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک اہم سیکیورٹی بریفنگ کے بعد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر کو ایران کے اقدامات کے جواب میں فوجی کارروائی کی سفارش کی۔ بریفنگ میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، امریکی مفادات کو درپیش خطرات اور ممکنہ جوابی آپشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ابتدا میں کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کرنا چاہتے تھے، تاہم فوجی اور سیکیورٹی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے جائزوں کے بعد انہوں نے محدود فوجی کارروائی کی منظوری دے دی۔ بعد ازاں امریکی فوج نے خطے میں ایرانی فوجی تنصیبات اور دفاعی اہداف کے خلاف آپریشن انجام دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ نئی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں فوجی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم امریکا اب بھی کسی بڑے اور طویل جنگی تنازع سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے اقدامات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button