
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
سابق امریکی صدر Donald Trump نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران آبنائے کھولنے پر آمادہ تھا، تاہم امریکا نے اسے اس لیے بند رکھا کیونکہ اس سے ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کی آمدن حاصل ہو سکتی تھی۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور اسے صرف اسی صورت میں کھولا جائے گا جب کوئی معاہدہ طے پائے یا صورتحال میں واضح تبدیلی آئے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ٹیم کے دیگر افراد اس پیش رفت پر خوش تھے، لیکن انہوں نے معاشی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ایران کو اس وقت تک مالی فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا جب تک وہ کسی بڑے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔

اسی دوران ایک صحافی نے چینی جہاز سے متعلق سوال کیا، جسے ٹرمپ نے ایرانیوں کے لیے “تحفہ” قرار دیا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس جہاز سے متعلق معلومات انتہائی خفیہ ہیں اور اس میں موجود اشیاء کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ جہاز میں “کچھ چیزیں” موجود تھیں لیکن وہ مکمل طور پر ٹاپ سیکرٹ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی اور اسٹریٹجک دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں سمندری راستوں، توانائی کی ترسیل اور اقتصادی مفادات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے جیسے اہم راستوں پر کنٹرول عالمی معیشت اور علاقائی طاقت کے توازن میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال موجود ہے، اور ایسے بیانات سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، خاص طور پر جب خفیہ معلومات اور عسکری حکمت عملی کا ذکر بھی ساتھ ہو۔



