
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
برطانیہ میں چین کی مبینہ جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق سابق برطانوی وزیراعظم کی سرکاری گاڑی میں ایک خفیہ ٹریکنگ ڈیوائس دریافت ہوئی تھی جو مبینہ طور پر چین کو ڈیٹا منتقل کر رہی تھی۔
برطانوی پارلیمنٹ کی بزنس اینڈ ٹریڈ کمیٹی کے اجلاس کے دوران چین کے امور کے ماہر اور تھنک ٹینک "کونسل آن جیو اسٹریٹیجی” سے وابستہ چارلس پارٹن نے انکشاف کیا کہ 2022 میں وزیراعظم کی سرکاری گاڑی کے ایک حصے سے ایسا ڈیٹا خارج ہو رہا تھا جو چین تک پہنچ رہا تھا۔
ان کے مطابق یہ ڈیوائس گاڑی کے ایک ایسے سیل بند حصے میں نصب تھی جو چین سے درآمد کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں موجود سیلولر ماڈیول موبائل نیٹ ورک کے ذریعے معلومات منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جس کے باعث سیکیورٹی اداروں نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
اگرچہ حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس وقت برطانیہ کے کون سے وزیراعظم کی گاڑی متاثر ہوئی تھی، تاہم 2022 کے دوران بورس جانسن، لز ٹرس اور رشی سونک تینوں مختلف ادوار میں وزیراعظم رہے تھے۔ اس لیے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مبینہ طور پر نشانہ بننے والی گاڑی کس وزیراعظم کے زیر استعمال تھی۔
چارلس پارٹن، جو تقریباً چار دہائیوں تک سفارتی خدمات انجام دے چکے ہیں اور چین، ہانگ کانگ اور تائیوان میں بھی طویل عرصہ تعینات رہے، نے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں حکومت کے ایک انتہائی سینئر رکن نے اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔
یہ معاملہ پہلی بار چند سال قبل منظر عام پر آیا تھا، تاہم تازہ بیان کے بعد یہ دعویٰ مزید توجہ حاصل کر گیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس مخصوص الزام پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ چین ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور انہیں سیاسی نوعیت کا قرار دیتا آیا ہے۔



