
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، ممکنہ مذاکرات اور جنگی حکمت عملی سے متعلق ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف ان کے فیصلے کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی اپنی دیرینہ پالیسی کا حصہ ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے انہیں ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ نہیں کیا، بلکہ 7 اکتوبر کے واقعات نے ان کے اس مؤقف کو مزید مضبوط کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔
ٹرمپ نے امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “فیک نیوز” ادارے حقائق کو مسخ کر رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق میڈیا کی بڑی تعداد جھوٹی یا مبالغہ آمیز رپورٹس پیش کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقائق مختلف ہیں۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے دباؤ میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ معاملات تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں، لیکن وہ امریکہ کو کسی جلد بازی میں ایسے معاہدے میں شامل نہیں کریں گے جو طویل المدت مفاد میں نہ ہو۔

صدر ٹرمپ نے ماضی کی بڑی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں جنگیں طویل عرصے تک جاری رہیں، لیکن ایران کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے اور فوجی لحاظ سے امریکہ نے تیزی سے برتری حاصل کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حتمی مقصد ایک مضبوط اور پائیدار حل ہونا چاہیے، نہ کہ جلد بازی میں کیا گیا سمجھوتہ۔
انہوں نے سابق امریکی حکومتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران کے معاملے کو مؤثر طریقے سے نہیں سنبھالا گیا، جس کی وجہ سے آج یہ مسئلہ پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے بقول موجودہ انتظامیہ اس “گڑبڑ” کو درست کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ٹرمپ نے اپنی فوجی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پہلی مدتِ صدارت میں امریکہ کی فوج کو جدید اور مضبوط بنایا گیا، جبکہ موجودہ دور میں اسی طاقت کو سوچ سمجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پرانے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران میں قیادت تبدیلی کے بعد “دانشمندی” کا مظاہرہ کیا جائے تو ملک ایک بہتر اور مستحکم مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایک طرف مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب دباؤ کی حکمت عملی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ دوہری پالیسی خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے یا مزید بڑھانے، دونوں کا باعث بن سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں دنیا بھر کی نظریں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔



