(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دو پاکستانی افراد کو چین کے خلائی پروگرام کے لیے بطور امیدوار منتخب کر لیا گیا ہے، جو مستقبل میں خلا میں جانے والے پہلے پاکستانی خلا باز بن سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان اور China کے درمیان بڑھتے ہوئے سائنسی اور تکنیکی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان امیدواروں کا انتخاب ایک سخت اور کئی مراحل پر مشتمل عمل کے بعد کیا گیا، جس میں جسمانی فٹنس، ذہنی صلاحیت، نفسیاتی استحکام اور تکنیکی مہارتوں کو جانچا گیا۔ خلائی مشنز کے لیے امیدواروں کو انتہائی سخت تربیت سے گزارا جاتا ہے، جس میں زیرو گریویٹی ماحول، ایمرجنسی ہینڈلنگ اور پیچیدہ سسٹمز کے استعمال کی عملی مشق شامل ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق منتخب امیدوار جلد چین کے خلائی ادارے کے تربیتی پروگرام میں شامل ہوں گے، جہاں وہ دیگر بین الاقوامی امیدواروں کے ساتھ جدید خلائی ٹیکنالوجی اور مشن آپریشنز کی تربیت حاصل کریں گے۔ اس عمل کے بعد حتمی انتخاب کیا جائے گا کہ کون سا امیدوار خلائی مشن کا حصہ بنے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے خلائی ادارے SUPARCO کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ اس سے ملک کی خلائی تحقیق اور سائنسی ترقی کو عالمی سطح پر نئی پہچان مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ پاکستان میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں دلچسپی بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
مزید برآں، پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون پہلے ہی سیٹلائٹ لانچ اور ریموٹ سینسنگ منصوبوں تک پھیلا ہوا ہے، اور اس نئی پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تعاون مستقبل میں مشترکہ خلائی اسٹیشن مشنز یا دیگر سائنسی تجربات تک بھی بڑھ سکتا ہے۔
اگر یہ مشن کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف خلا میں اپنے شہری بھیجنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا بلکہ یہ کامیابی قومی وقار، سائنسی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔