شمالی کوریا کے میزائل تجربات، کشیدگی میں اضافہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
شمالی کوریا نے اتوار کی صبح متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا، جس کے بعد مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق یہ میزائل کوریائی جزیرہ نما اور جاپان کے درمیان سمندر کی جانب فائر کیے گئے، جس سے خطے میں موجود ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
سیول حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجربات ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پہلے ہی خطے میں فوجی سرگرمیوں اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق شمالی کوریا اکثر ایسے تجربات کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور عالمی برادری پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔
جاپان نے بھی ان میزائل تجربات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ جاپانی حکام کے مطابق میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون کے قریب گرے، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے بار بار میزائل تجربات اس بات کا اشارہ ہیں کہ وہ اپنے اسلحہ پروگرام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر ان تجربات کی مذمت کی جا رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے پہلے ہی شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



