(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
امریکا میں ایک حالیہ سروے کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر عوامی رائے منقسم نظر آتی ہے، جبکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود بڑی تعداد میں امریکی شہری جنگی اہداف کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔
صرف 15 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنے اہداف پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں، جبکہ 25 فیصد افراد کو توقع ہے کہ یہ اہداف مستقبل میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس تقریباً 40 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ یا تو اہداف حاصل نہیں ہوئے، یا وہ حاصل نہیں ہوں گے، یا پھر یہ واضح ہی نہیں کہ اصل مقاصد کیا ہیں۔
مزید یہ کہ سروے کے مطابق صرف 38 فیصد امریکی شہری ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی سطح پر اس پالیسی کے لیے بھرپور حمایت موجود نہیں۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام جنگی حکمتِ عملی اور اس کے مقاصد کے بارے میں مکمل طور پر قائل نہیں ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اہداف وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں یا واضح نہیں کیے گئے، جس سے اعتماد میں کمی آ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تقسیم شدہ رائے مستقبل کی امریکی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ایران سے متعلق صورتحال حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔