
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل اسرائیل نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اہم دفاعی مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق مذاکرات کے موجودہ ایجنڈے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شامل نہیں کیا گیا، جو ان کے نزدیک ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاہدے میں اس معاملے کو نظر انداز کیا گیا تو ایران مستقبل میں دوبارہ اپنی میزائل صلاحیت کو تیزی سے بحال کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی دفاعی اداروں نے حکومت کو حالیہ رپورٹس میں آگاہ کیا ہے کہ ایران اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو دوبارہ مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر اس پر کوئی پابندی نہ لگائی گئی تو آنے والے برسوں میں اس کی فوجی طاقت مزید بڑھ سکتی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا کسی بھی معاہدے کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی حکام یہ بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی اور مالی وسائل کی بحالی سے ایران کو اپنے دفاعی پروگرام کو مزید وسعت دینے کا موقع مل سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلافات امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بھی پالیسی سطح پر فرق کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں واشنگٹن ممکنہ معاہدے کے لیے لچک دکھا رہا ہے جبکہ اسرائیل سخت شرائط کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں جیسے اہم مسائل کو شامل نہ کیا گیا تو کسی بھی معاہدے کی پائیداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی یا فوجی کارروائیوں کا امکان برقرار رہے گا۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی توازن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں ہر فریق اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔



