
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں چین نے ایک بار پھر سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے نہ صرف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا بلکہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کی فوری بحالی پر بھی زور دیا، جسے عالمی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات، جن میں بحری ناکہ بندی، جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں اور سیکیورٹی خدشات شامل ہیں، نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل سپلائی کا ایک بڑا حصہ سنبھالتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہِ راست توانائی کی قیمتوں اور عالمی مارکیٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔
چین، جو دنیا کے بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بیجنگ نے نہ صرف فریقین کو تحمل کی تلقین کی بلکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ چین کی خارجہ پالیسی عموماً ایسے بحرانوں میں غیر جانبداری اور مذاکرات کی حمایت پر مبنی ہوتی ہے، اور موجودہ بیان بھی اسی حکمت عملی کا تسلسل ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق چین کی جانب سے یہ اپیل محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ اور امریکہ کی معیشتوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے عالمی طاقتیں اس راستے کو کھلا رکھنے میں مشترکہ دلچسپی رکھتی ہیں۔
دوسری جانب، خطے میں جاری کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن زمینی حقائق اور سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فوری حل آسان نہیں۔ ایسے میں چین جیسے ممالک کی جانب سے ثالثی اور دباؤ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے بروقت اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اہم تجارتی راستوں کا تحفظ اور تنازعات کا پرامن حل عالمی امن و استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔



