امریکاتازہ ترین

100 دن کی ایران جنگ، کھربوں ڈالر کا نقصان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے 100 دن مکمل ہونے پر سامنے آنے والے اعداد و شمار اس تنازعے کے وسیع اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ براہِ راست جنگی کارروائیاں نسبتاً کم عرصے تک جاری رہیں، تاہم اس کے معاشی، عسکری اور جغرافیائی سیاسی اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والے اس تنازعے میں 100 دنوں کے دوران 39 دن براہِ راست فوجی کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ 61 دن جنگ بندی یا نسبتاً خاموشی رہی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود سمندری محاصرے، اقتصادی دباؤ اور بالواسطہ محاذ آرائیوں نے کشیدگی کو برقرار رکھا۔

امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد کی جانے والی کارروائیاں کئی ہفتوں تک جاری رہیں، جن کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو محدود کرنا بتایا گیا۔ دوسری جانب خلیج کے اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث عالمی خام تیل کی فراہمی کا بڑا حصہ متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ درجنوں ممالک کو ہنگامی اقتصادی اقدامات اور صارفین کے لیے خصوصی ریلیف پیکجز متعارف کرانے پڑے۔

فوجی محاذ پر بھی جنگ غیر معمولی شدت اختیار کرتی دکھائی دی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ہزاروں حملے، میزائل فائرنگ اور ڈرون کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازعے نے جدید فضائی دفاعی نظاموں، میزائل ٹیکنالوجی اور بحری طاقت کی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button