(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین کے صدر نے آٹھ سال بعد شمالی کوریا کا دورہ کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران شمالی کوریا اور چین کی قیادت کے درمیان دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی اور اقتصادی روابط سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق چینی صدر کا استقبال اعلیٰ سطح پر کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک نے اپنی تاریخی دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سکیورٹی، تجارتی اور سفارتی معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور شمالی کوریا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور بیجنگ کو پیانگ یانگ کا اہم سیاسی و اقتصادی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ملاقات میں سرحدی تجارت، علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے۔
عالمی مبصرین اس دورے کو مشرقی ایشیا میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق چین خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔