ایرانتازہ ترین

ایران جنگ ختم؟ ۔ ٹرمپ پاکستان آئے گا

امریکہ کے سابق صدر Donald Trump کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انہوں نے ایران جنگ، حزب اللہ، اور امریکی داخلی سیاست پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

ٹرمپ نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ "بہت اچھے طریقے سے چل رہی ہے” اور ان کے مطابق یہ جلد اپنے اختتام کو پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ کو ایران میں کارروائی "مجبوراً” کرنا پڑی تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ ان بیانات کو بعض تجزیہ کار امریکی پالیسی کے سخت مؤقف کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔

اسی دوران انہوں نے لبنان کی تنظیم Hezbollah کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں "ذمہ دارانہ رویہ” اختیار کیا جائے، اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ ان کے لیے ایک اہم موقع ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ اب مزید خونریزی کے بجائے امن کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔

امریکی داخلی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے نیویارک کے سیاستدان Zohran Mamdani کو "اچھا انسان” قرار دیا، تاہم ان کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی سیاست میں بعض "عجیب اور غیر سنجیدہ آئیڈیاز” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بعض اوقات شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ میں انتخابی ماحول گرم ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر ایران، اسرائیل اور خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف امریکی ووٹرز کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سفارتی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ بیانات عملی پالیسی میں تبدیل ہوتے ہیں یا صرف انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہیں، تاہم فی الحال انہوں نے عالمی سطح پر توجہ ضرور حاصل کر لی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button