امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کا ایران کو 12 گھنٹے کا الٹی میٹم، سخت وارننگ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے ایک سخت اور غیر معمولی بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایک “مکمل تہذیب” تباہ ہو سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ایسٹر کے بعد ایران کو مبینہ طور پر 12 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا، جسے ان کے قریبی مشیروں نے ایک دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق، اس حکمت عملی کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا اور ممکنہ طور پر جاری کشیدگی کو ختم کروانا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے قریبی حلقوں، جن میں سینیٹر مارکو روبیو جیسے اہم نام شامل ہیں، نے اس بیان کو براہ راست جنگی دھمکی کے بجائے ایک “نفسیاتی دباؤ” کے طور پر دیکھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اس قسم کے بیانات کے ذریعے ایران کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اگر وہ لچک نہ دکھائے تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے گزشتہ کئی دہائیوں کے نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر تبدیلی آتی ہے تو شاید ایک “نیا اور بہتر نظام” سامنے آ سکتا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بھی مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب، ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تہران ایسے بیانات کو دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر ہی لے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی حل ہی واحد راستہ ہے، کیونکہ کسی بھی قسم کی براہ راست محاذ آرائی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور توانائی کی سپلائی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button