
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے مذاکرات منگل کو متوقع ہیں، تاہم ایران کی جانب سے اس میں شرکت سے انکار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام ان مذاکرات کے لیے پرامید ہیں اور واشنگٹن کی نمائندگی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد روانہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں مذاکرات میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اسے امریکی مؤقف پر تحفظات ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جن میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ ان بیانات نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اہم شرائط بھی سامنے رکھی گئی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا اور افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا شامل ہے، تاہم ایران ان مطالبات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی واضح کیا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کے باوجود خطرات برقرار رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتیں خطے کے لیے بدستور تشویش کا باعث ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد خطے میں دوبارہ تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ کامیاب مذاکرات کی صورت میں کشیدگی کم ہونے کی امید بھی موجود ہے۔ موجودہ حالات میں سفارت کاری اور طاقت کے درمیان توازن ہی آئندہ صورتحال کا تعین کرے گا۔



