(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
غزہ میں جاری جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر پیش رفت ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئی ہے، جہاں Hamas نے امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت اسلحہ چھوڑنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے پہلے مرحلے کی مکمل عملداری نہ ہونے کے باعث کیا گیا۔
مذاکرات سے باخبر ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر اس وقت تک بات چیت نہیں کرے گی جب تک اسرائیل پہلے مرحلے کے تمام وعدے پورے نہیں کرتا۔ ان کے مطابق، حماس کو خدشہ ہے کہ یکطرفہ اقدامات سے فلسطینی موقف کمزور ہو سکتا ہے۔
یہ منصوبہ امریکی صدر Donald Trump کی امن کوششوں کے تحت تیار کیا گیا تھا، جس میں غزہ کو غیر مسلح کرنے کو مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم، حماس کا مؤقف ہے کہ اسلحہ کا معاملہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے جڑا ہوا ہے اور اسے کسی جزوی معاہدے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ حماس کی غیر مسلحی کے بغیر کسی اگلے مرحلے کی جانب پیش رفت نہیں کرے گا، جس کے باعث دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہی اختلافات امن عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ہونے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ، یرغمالیوں کی رہائی اور جزوی فوجی انخلا ممکن ہوا تھا، تاہم دوسرے مرحلے کے لیے درکار اعتماد سازی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔ ادھر مصر اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ مذاکرات کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو، سکیورٹی انتظامات اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے جیسے اہم معاملات پر اتفاق رائے کے بغیر کسی مستقل حل تک پہنچنا مشکل ہوگا۔ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں امن اب بھی نازک اور غیر یقینی ہے۔