
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل سے متعلق عارضی پابندیوں میں دی گئی نرمی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد تہران کی توانائی برآمدات کو ایک نیا دھچکا لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں دی گئی 30 روزہ چھوٹ کو مزید توسیع نہیں دی جائے گی، جبکہ روسی تیل سے متعلق ایک اور نرمی بھی خاموشی سے ختم کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والی تیل کی ترسیل پر سخت نگرانی اور دباؤ بڑھا چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے یہ فیصلہ ایران کے خلاف “زیادہ سخت معاشی حکمت عملی” کا حصہ ہے، جس کا مقصد تہران کو مذاکرات کی میز پر لانا اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ بعض حکام نے اس پالیسی کو ایک وسیع تر دباؤ مہم سے جوڑا ہے، جس میں معاشی پابندیوں کے ساتھ دیگر اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ نے چین کو بھی اس حوالے سے پیغام دیا ہے، کیونکہ بیجنگ ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین اور دیگر ممالک نے امریکی دباؤ کے تحت ایرانی تیل کی خریداری کم کر دی تو ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے کے عالمی توانائی منڈی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایرانی تیل کی سپلائی محدود ہونے سے قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کے لیے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ایران اس بڑھتے ہوئے دباؤ کا کیا جواب دیتا ہے، اور آیا یہ صورتحال کسی نئی سفارتی پیش رفت کی جانب لے جاتی ہے یا خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے۔



