(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے جدید بیلسٹک میزائل "خیبر شکن” کو اسرائیل کی جانب داغا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کارروائی حالیہ علاقائی تناؤ کے تناظر میں کی گئی، جس کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خیبر شکن میزائل ملک کے جدید دفاعی نظام کا حصہ ہے اور اسے طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ سرکاری بیانات میں اس کارروائی کو قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی سے جوڑا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سفارت کاری، توانائی کی منڈیوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔