
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے پر عالمی سطح پر جاری بحث کے دوران ایک سابق اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو انتہائی احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے۔
اسرائیل کے سابق سینیئر دفاعی اہلکار اور ایران کے جوہری پروگرام کے ماہر ایونر ویلان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کا ماضی کا رویہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، اس لیے کسی بھی پیش رفت کو حتمی کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات میں وقت لینے کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے، جو کہ ایک روایتی سفارتی طریقہ کار ہے۔
ویلان نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں سب سے اہم مسئلہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہوگا۔ ان کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس 2018 سے اب تک تقریباً 450 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے، جو اسے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب لے جا سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدار نظریاتی طور پر 11 سے 12 ایٹمی ہتھیاروں کے لیے کافی ہو سکتی ہے، اس لیے اس مواد کو یا تو ایران سے باہر منتقل کرنا ہوگا یا مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا ہوگا۔ ان کے بقول یہی شرط کسی بھی امریکی معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ افزودہ مواد ایران کے تین مختلف مقامات پر موجود ہو سکتا ہے، جن کی فضائی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ویلان کا کہنا تھا کہ جب تک اس ذخیرے کو کنٹرول یا ختم نہیں کیا جاتا، کسی جامع معاہدے کا امکان کم ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر اس معاملے میں لچک دکھا سکتا ہے، کیونکہ وہ اپنے سیاسی نظام کے استحکام کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ تاہم، اعتماد کی کمی اب بھی دونوں فریقین کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کی تشویش بدستور موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کوئی نیا معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیکیورٹی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔



