(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی نے خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایک نئے علاقائی تعاون پلیٹ فارم کے قیام کے لیے اہم سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت اس ہفتے اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان بات چیت میں پاکستان، سعودی عرب اور ممکنہ طور پر مصر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ مذاکرات ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والے سالانہ “انطالیہ ڈپلومیسی فورم” کے موقع پر ہوں گے، جہاں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ ترک حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس فورم کے سائیڈ لائنز پر ان ممالک کے درمیان ایک مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ ایک ماہ کے دوران اس نوعیت کی تیسری ملاقات ہوگی۔ اس سے قبل اسی موضوع پر ریاض اور اسلام آباد میں بھی ابتدائی مشاورت ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ ممالک اس معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اس ممکنہ سیکیورٹی پلیٹ فارم کا مقصد خطے میں تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ خطرات جیسے دہشت گردی، سرحدی سلامتی، اور علاقائی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال نے ایسے اقدامات کی ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اس عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب بھی اس پلیٹ فارم کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مصر بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ اتحاد مزید مؤثر اور وسیع ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف علاقائی سیکیورٹی کے لیے اہم ہو سکتی ہے بلکہ اس سے اقتصادی اور سفارتی تعاون کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ تاہم، اس مجوزہ پلیٹ فارم کی کامیابی کا انحصار رکن ممالک کے درمیان اعتماد، مشترکہ مفادات اور عملی اقدامات پر ہوگا۔
فی الحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم توقع ہے کہ ان مذاکرات کے بعد مشترکہ حکمت عملی یا آئندہ کے لائحہ عمل پر پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔