
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین اور ایران کے درمیان عسکری تعاون گزشتہ چار دہائیوں پر محیط ایک پیچیدہ اور بتدریج بدلتی ہوئی شراکت داری کی کہانی ہے، جس میں براہِ راست اسلحہ فراہمی سے لے کر جدید دوہری استعمال (dual-use) ٹیکنالوجی تک مختلف مراحل شامل رہے ہیں۔
1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران چین ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل تھا، جہاں میزائل، ٹینک اور دیگر جنگی سازوسامان کی فراہمی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ عالمی دباؤ، اقوام متحدہ کی پابندیوں اور امریکی سخت اقدامات کے باعث چین نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔
گزشتہ ایک دہائی میں چین نے براہِ راست اسلحہ فروخت تقریباً ختم کر دی اور اس کی جگہ ایسی ٹیکنالوجی اور پرزہ جات فراہم کرنے پر توجہ دی جو بظاہر سویلین استعمال کے لیے ہوتے ہیں، لیکن انہیں ڈرونز، میزائل پروگرام اور دیگر دفاعی نظاموں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین اس طرزِ تعاون کو "خاموش مگر مؤثر سپورٹ” قرار دیتے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق اب ایک بار پھر اس تعلق پر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے، جب امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ چین ممکنہ طور پر ایران کو کندھے سے چلنے والے فضائی دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق اس حوالے سے معلومات حتمی نہیں، لیکن اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ چین کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جائے گی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات کو ایک متوازن انداز میں برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایک طرف وہ عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران جیسے اہم شراکت دار کو مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کر سکتا۔
یہ تعلق صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی پہلو بھی رکھتا ہے، جہاں توانائی، تجارت اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس شراکت داری کو مزید اہم بنا رہی ہے۔
موجودہ صورتحال میں ماہرین کا ماننا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان تعاون کا یہ ماڈل مستقبل میں بھی جاری رہ سکتا ہے، جہاں براہِ راست فوجی مدد کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیتوں اور دفاعی سسٹمز میں بالواسطہ تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔
مجموعی طور پر چین اور ایران کے تعلقات ایک ایسے اسٹریٹجک توازن کی عکاسی کرتے ہیں جہاں دونوں ممالک اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی دباؤ اور علاقائی سیاست کے درمیان راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔



