ایرانتازہ ترین

ایران پر دوبارہ حملہ ۔ خونی پلان بے نقاب

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران سے متعلق جاری کشیدگی نے عالمی سطح پر سیاسی، عسکری اور سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے، جہاں ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی دباؤ بڑھا رہے ہیں تو دوسری جانب ایران اور خطے کے دیگر ممالک اپنے ردعمل میں سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں نے توقع کے مطابق مدد فراہم نہیں کی، جبکہ چین کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بیجنگ ایران کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ عالمی تجارت جاری رکھنے میں امریکا نے کردار ادا کیا۔

دوسری جانب جنگ بندی میں 22 اپریل تک توسیع کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی تعینات کر دیے ہیں، جس سے خطے میں امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ایرانی عسکری قیادت کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی دباؤ یا محاصرہ جاری رہا تو ایران سمندری راستوں پر تجارت کو محدود کر سکتا ہے، جس میں خلیج فارس اور بحیرہ احمر جیسے اہم راستے شامل ہیں۔

ادھر پاکستان نے بھی سفارتی محاذ پر سرگرمی دکھائی ہے۔ ایک اعلیٰ پاکستانی وفد نے ایران کا دورہ کیا اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جہاں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ پاکستان کو اس تنازع میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خلیجی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر منصور بن زاید اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا۔ ایران نے امارات کے ساتھ تعلقات کو مثبت انداز میں آگے بڑھانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 35 مبینہ جاسوسوں اور دہشت گرد عناصر کو گرفتار کیا ہے، جبکہ اسرائیل میں بھی ایک خاتون کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان اقدامات کو جاری سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

یورپ میں بھی اس صورتحال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ برطانیہ کی نہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش ناقابل قبول ہوگی۔ برطانوی وزیر خزانہ نے بھی خبردار کیا کہ جنگ کا آغاز تو ہو چکا ہے لیکن اس سے نکلنے کی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ رہی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں فوجی دباؤ، معاشی پابندیاں اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی کی کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے اور کسی بھی وقت مزید بگڑ سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button