(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف خطے کی سکیورٹی صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ خود امریکہ کی فوجی صلاحیت اور وسائل پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق محض 39 دن کی لڑائی میں امریکہ نے اپنے ہزاروں جدید اور انتہائی مہنگے میزائل استعمال کر ڈالے، جس سے اس کے دفاعی ذخائر پر نمایاں دباؤ پڑا ہے۔
یہ انکشاف واشنگٹن میں قائم معروف تھنک ٹینک Center for Strategic and International Studies (CSIS) کی تازہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مختصر مگر شدید جنگ کے دوران امریکہ نے کروز میزائل، انٹرسیپٹر میزائل اور جدید دفاعی نظام بڑی تعداد میں استعمال کیے، جو ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن اہم ہتھیاروں کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا ان میں Tomahawk کروز میزائل، Patriot دفاعی نظام، THAAD میزائل، SM-3 اور SM-6 جیسے جدید انٹرسیپٹرز شامل ہیں۔ یہ تمام نظام نہ صرف ایران جیسے محاذ پر بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک Tomahawk میزائل کی قیمت تقریباً 26 لاکھ ڈالر جبکہ SM-3 انٹرسیپٹر تقریباً 2 کروڑ 87 لاکھ ڈالر تک کا ہوتا ہے۔ اسی طرح THAAD میزائل کی قیمت ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد جبکہ Patriot میزائل تقریباً 39 لاکھ ڈالر میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب ان مہنگے ہتھیاروں کو ہزاروں کی تعداد میں استعمال کیا جائے تو مجموعی لاگت چند ہفتوں میں ہی اربوں ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکہ نے صرف Tomahawk میزائل ہی 850 سے زائد داغے، جبکہ Patriot اور دیگر دفاعی میزائل ہزاروں کی تعداد میں استعمال ہوئے۔ تاہم اصل تشویش صرف استعمال کی مقدار نہیں بلکہ ان ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری کی رفتار بھی ہے، جو خاصی سست بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض جدید میزائل سسٹمز کی تیاری میں آرڈر سے ڈیلیوری تک چار سال تک کا وقت لگ سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر اسی رفتار سے ہتھیار استعمال ہوتے رہے تو مستقبل میں امریکہ کو شدید کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فی الحال امریکہ کے پاس جاری تنازع کو جاری رکھنے کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے، تاہم طویل مدت میں صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر امریکہ کو کسی اور بڑی جنگ — مثلاً چین کے ساتھ ممکنہ تنازع — کا سامنا کرنا پڑ جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے بھی امریکہ کے میزائل ذخائر کو ناکافی قرار دیا جا رہا تھا، اور حالیہ جنگ نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس صورتحال نے دفاعی پالیسی سازوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی پیداوار بڑھائیں بلکہ جنگی حکمت عملی پر بھی نظرثانی کریں۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جدید دور کی “مہنگی جنگ” کی واضح مثال ہے، جہاں صرف چند ہفتوں میں اربوں ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں اور ٹیکنالوجی پر انحصار جنگ کو مزید پیچیدہ اور مہنگا بنا دیتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے، لیکن مسلسل جنگی دباؤ اور وسائل کے تیز استعمال نے اس کی طویل المدتی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔