
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق چین آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جسے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ترسیل خفیہ طریقے سے تیسرے ممالک کے ذریعے کی جا سکتی ہے تاکہ اس کے اصل ذرائع کو چھپایا جا سکے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین ایران کو "مین پیڈز” (MANPADS) یعنی کندھے سے فائر کیے جانے والے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ ہتھیار خاص طور پر کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں، اور ماضی میں بھی جنگی حالات میں مؤثر ثابت ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام ایران کو فراہم کیے گئے تو وہ امریکی یا اتحادی افواج کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جب خطے میں پہلے ہی فوجی کشیدگی موجود ہے۔ ان ہتھیاروں کی بدولت ایران اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر جنگ بندی کے دوران اپنے دفاعی نظام کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس عمل میں اسے چین جیسے اتحادی ممالک کی مدد حاصل ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن مزید تبدیل ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ پیش رفت نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آ سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کی جانب سے جو پہلے ہی ایران کے عسکری پروگرام پر تشویش رکھتے ہیں۔
دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، کیونکہ اس طرح کی اطلاعات اکثر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ خبر خطے میں جاری طاقت کی کشمکش اور عالمی اتحادوں کی بدلتی سمت کی عکاسی کرتی ہے۔



