امریکاتازہ ترین

امریکی پالیسی میں تبدیلی، اسرائیل کے لیے خطرے کی گھنٹی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی پالیسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ ملک کو اپنی سلامتی کے لیے بیرونی انحصار کم کرتے ہوئے مکمل فوجی خودمختاری کی طرف بڑھنا ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات میں بتدریج تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو اسلحہ فراہمی روکنے کی ایک کوشش ناکام ضرور ہوئی، تاہم ووٹنگ کے اعداد و شمار نے ایک نئی حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اگرچہ قراردادیں مسترد ہو گئیں، لیکن بڑی تعداد میں ڈیموکریٹ سینیٹرز نے اسرائیل کو فوجی سازوسامان فراہم کرنے کی مخالفت کی، جو ماضی کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس بار 47 میں سے 40 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے اسرائیل کو ہتھیار دینے کی مخالفت کی، جو تقریباً 85 فیصد بنتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی سیاسی منظرنامے میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے اسرائیل کی قومی سلامتی کا ایک بنیادی ستون امریکہ کی فوجی برتری فراہم کرنے کی پالیسی رہی ہے، جس کے تحت جدید ہتھیار، ٹیکنالوجی اور مالی مدد اسرائیل کو حاصل ہوتی رہی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں اس پالیسی پر مکمل انحصار کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی دفاعی حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ملک کو اپنے دفاعی نظام، اسلحہ سازی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں خود کفالت کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق "خودمختاری کا مطلب تنہائی نہیں بلکہ اپنی بقا کی ضمانت خود فراہم کرنا ہے”، تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران میں بیرونی دباؤ سے آزاد رہ کر فیصلے کیے جا سکیں۔

یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل بیک وقت غزہ، لبنان اور ایران سے جڑے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکی پالیسی میں یہی تبدیلی جاری رہی تو اسرائیل کو اپنی دفاعی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جن میں مقامی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانا اور متبادل اتحادیوں کی تلاش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے توازنِ طاقت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکی کردار میں کسی بھی کمی کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button